سوات کے دینی مدرسے میں 12 سالہ طالبعلم کی اساتذہ کے مبینہ تشدد سے ہلاکت
-
- محمد زبیر خان
- عہدہ,صحافی
- 24 جولائی 2025اپ ڈیٹ کی گئی 29 جولائی 2025
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر سوات کی پولیس کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ایک مدرسے میں اساتذہ کے مبینہ تشدد سے 12 سالہ بچے کی ہلاکت کے بعد مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
ڈسڑکٹ پولیس آفیسر سوات محمد عمر خان کے مطابق مرکزی ملزمان باپ بیٹا ہیں، جن کو عدالت میں پیش کر کے ان کا تین روزہ ریمانڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سوات میں ایک دینی مدرسے کے اساتذہ کی جانب سے مبینہ تشدد سے 12 سالہ بچے کی ہلاکت کے بعد ایف آئی آر مقتول 12 سالہ فرحان کے چچا کی مدعیت میں خوازہ خیلہ پولیس نے درج کی تھی۔
سوات پولیس کا کہنا تھا کہ بچے کے قتل اور دیگر طالبعلموں پر تشدد کے دو الگ الگ مقدمات درج کر کے مجموعی طور پر 11 افراد کو گرفتار کیا گیا تاہم دو ملزمان مفرور ہیں۔
سوات پولیس کے مطابق دونوں مرکزی ملزمان فرار ہونے کی کوشش میں مصروف تھے اور اپنی جگہ متواتر تبدیل کر رہے تھے جبکہ انھوں نے اپنے موبائل فون بھی بند کر رکھے تھے۔