پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں 22 ستمبر کو ہونے والے پولیس مقابلے میں زخمی ہونے والا ملزم کوئی عام جرائم پیشہ شخص نہیں تھا بلکہ وہ کراچی پولیس کا سابق انٹیلیجنس اہل کار تھا۔
پولیس کی ایف آئی آر اور ترجمان ضلع جنوبی پولیس کی جانب سے اردو نیوز کو فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق ’زخمی ملزم سہیل ڈسٹرکٹ ساؤتھ تھانہ ڈیفنس میں انٹیلیجنس یونٹ کا اہلکار رہ چکا ہے اور ان دنوں حوالدار بننے کے لیے سعید آباد ٹریننگ سینٹر میں کورس کر رہا تھا۔‘
یہ امر باعث حیرت ہے کہ وہ نائٹ پاس لے کر ٹریننگ سینٹر سے نکلتا اور اس دوران تھانہ ڈیفنس کی حدود میں ڈکیتیوں کی وارداتیں کرتا۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ ’سہیل کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا اور اس کے قبضے سے اسلحہ، متعدد قیمتی موبائل فون، نقد رقم اور شناختی دستاویزات برآمد ہوئیں۔ ملزم کے دیگر ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تاہم پولیس تفتیش شروع کر رہی ہے۔
پولیس اہل کاروں کی جرائم میں شمولیت
یہ واقعہ نیا ضرور ہے لیکن حیران کن نہیں۔ کراچی پولیس کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پولیس کے اپنے اہل کار ہی مختلف جرائم میں ملوث رہے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل پولیس اہل کاروں کے اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، سٹریٹ کرائم اور ڈکیتیوں میں ملوث ہونے کے انکشافات نے شہریوں کو حیران کر دیا تھا۔
سینیئر کرائم رپورٹر ثاقب صغیر کے مطابق رواں برس کے دوران سندھ پولیس کے اہل کاروں کے خلاف بڑی تعداد میں مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق اس برس صوبے کے مختلف تھانوں میں پولیس افسروں اور اہل کاروں کے خلاف 291 مقدمات درج ہوئے جن میں 336 اہل کار نامزد کیے گئے۔
ان مقدمات میں اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، جعلی پولیس مقابلے اور سمگلروں کی سہولت کاری جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔
ثاقب صغیر نے بتایا کہ ’ان مقدمات میں شامل اہل کاروں میں سے اب تک 174 کو گرفتار، 249 کو معطل اور 22 کو نوکری سے برطرف کیا گیا۔ 12 اہل کار تاحال مفرور ہیں جبکہ 149 ضمانت پر رہا ہیں۔‘