12 سالہ بچے کا قتل، مدرسے کے 5 نابالغ طالب علم گرفتار
بھارت کے اڑیشہ کے نیا گڑھ ضلع میں موجود مدرسے کے پانچ نابالغ طلباء کو پولیس نے مبینہ طور پر 12 سالہ لڑکے کو قتل کرنے اور اس کی لاش کو سیپٹک ٹینک میں پھینکنے کے الزام میں حراست میں لے لیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق واقعہ 2 ستمبر کو نیا گڑھ ضلع کے رانپور پولیس اسٹیشن حدود میں واقع ایک مدرسہ میں پیش آیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ 3 ستمبر کو ایک کیس درج کیا گیا، جس کے بعد 12 سے 15 سال کی عمر کے پانچ ملزمان نابالغ لڑکوں کو ہفتہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔
تحقیقات میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ متاثرہ لڑکا، جس کا تعلق ضلع کٹک کے علاقے بدامبا سے تھا، نے مبینہ طور پر اس نے اپنے سینئرز کو دھمکی دی تھی کہ وہ جونیئر طالب علموں کے ساتھ جنسی زیادتی کے فعل کو بے نقاب کرے گا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ کو مدرسہ کے ایک سینئر نے گزشتہ چھ ماہ سے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور 31 اگست کو بھی اسے قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔
ابتدائی طور پر متاثرہ کی لاش کو ٹینک سے نکالنے کے بعد یہ ایک حادثہ ظاہر کیا گیا مگر بعد میں شواہد سے معلوم ہوا کہ اسے جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق اطلاعات ہیں کہ مقتول کو قتل کرنے سے پہلے مدرسے کے 15 سالہ سینئر سمیت دو سینئر لڑکوں نے بدفعلی کا نشانہ بنایا اور اس کی لاش کو سیپٹک ٹینک میں پھینک دیا۔ لڑکے کو مرکزی ملزم اور اس کے چار ساتھیوں نے گلا دبا کر قتل کیا۔
پانچوں ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا، قتل کے الزام اور پوکسو ایکٹ کی دفعہ 103 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔